Select Language

اللہ کا نور اور اُمّت مسلمہ کی خوشحالی کا سفر

7/06/2015

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

محمّد قاسم بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ خواب 2015 میں دیکھا۔ میں دیکھ رہا ہوتا ہوں کہ میرے گھر میں تعمیراتی کام جاری ہے۔ تب میں اپنے گھر کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں اور خاتم النبیین محمد (ﷺ) میرے پاس آئے اور فرمایا کہ "قاسم! جب آپ کا گھر مکمل ہوجائے گا، تب میں آپ کو مدینہ آنے کے لئے بلاؤں گا اور میں وہاں آپ سے ملوں گا۔ پھر میں آپ کو مکّہ جاکر اللہ کا شکر ادا کرنے کا حکم دوں گا اور پھر آپ کو اُمّت مسلمہ کی مدد کرنی ہوگی۔" میں نے کہا "ہاں! آپ جو کچھ کرنے کو کہیں گے میں وہ کروں گا۔"

تب میں نے خود کو ایک بہت بڑی مسجد میں دیکھا جس میں روشنی کی ایک بہت ہی کم مقدار تھی۔ امام صاحب نماز شروع کرتے ہیں اور میں اس میں شامل ہوجاتا ہوں۔

جب ہم نماز ختم کرتے ہیں تو کچھ لوگ میری طرف دیکھتے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں کہ "ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں ، آپ سے ایک روشنی آرہی ہے۔" میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ "تو کیا؟" تب وہ لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ "کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم اندھیرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور یہ اندھیرے ہر روز بڑھ رہے ہیں، براہ کرم ہماری مدد کریں، آپ کے پاس روشنی ہے، ہمیں اس روشنی میں لے کر جائیں ، تب ہی ہم اس اندھیرے سے نکل سکتے ہیں۔" میں ان کو جواب دیتا ہوں کہ "میرے پاس صرف اللہ ﷻ کا نُور ہے اور میں اس سے پوری دنیا کو بھر سکتا ہوں۔" وہ مجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ میں ان کے لئے یہ کام کروں۔ پھر میں اللہ کے نُور کو تاریک آسمان میں پھینک دیتا ہوں، اس طرح آسمان نُور سے بھر جاتا ہیں، اور پوری دنیا نُور کے ساتھ چمکنے لگتی ہے۔ اور مسلمانوں کے چہرے بھی ستاروں کی طرح چمکنے لگتے ہیں اور سب خوش ہوجاتے ہیں۔ (یہ وہیں خواب ختم ہو جاتا ہے) ۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Next Post Previous Post