Select Language

بڑی مسجد اور خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ کی نماز کی ادائیگی

25-02-2015

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

محمد قاسم بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس خواب میں دیکھا کہ خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ عصر کی نماز کے لئے وضو کرنے کے بعد اپنے گھر سے باہر آئے۔ خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ ضعیف ہوچکے ہوتے ہیں اور انہیں چلنے کے لیے ایک چھڑی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ یہ کہتے ہوئے پکارتے ہیں کہ "کیا کوئی مجھے مسجد میں لے جانے والا ہے؟" لیکن کوئی جواب نہیں دیتا اور سب اپنے اپنے کام میں مصروف ہوتے ہیں۔ خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ بہت پریشان ہو جاتے ہیں اور قریب ترین مسجد کی طرف چل پڑتے ہیں۔ جب وہ مسجد پہنچ جاتے ہیں تو کسی نے بھی خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ کا انتظار نہیں کیا ہوتا اور نماز ختم ہو چکی ہوتی ہے تو وہ اور بھی پریشان اور افسردہ ہوجاتے ہیں کہ کسی نے بھی ان کا انتظار نہیں کیا۔ پھر وہ اپنے گھر کی طرف چلنا شروع کر دیتے ہیں اور کوئی بھی انکو مدد کی پیش کش نہیں کرتا۔

میں نے حال ہی میں ایک مشکل کام ختم کیا ہوتا ہے اور میں خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ کے گھر کے قریب ان سے ملاقات کرتا ہوں۔ خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ فرماتے ہیں کہ "قاسم! آپ میرے پاس اس وقت تشریف لائے جب نماز ختم ہوچکی ہے تو اب کیا فائدہ ہے، کوئی بھی میری بات نہیں سُنتا اور نہ ہی مجھے مسجد لے جاتا ہے۔" میں کہتا ہوں کہ "آپ فکر مت کریں، یہاں بہت بڑی مسجد ہے جہاں نماز شروع نہیں ہوئی ہے، لہٰذا یہ کیسا رہے گا کہ میں آپ کو وہاں لے جاؤں؟ خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ رنجیدہ لہجے میں فرماتے ہیں کہ "قاسم! آپ مجھے قریب والی مسجد میں نہیں لے جاسکے تو آپ مجھے اس مسجد میں کیسے لے جائیں گے جو دور ہے اور وقت پر نماز کیسے ادا ہوگی؟ آپ کے پاس کار بھی نہیں ہے، تو ٹھیک ہے قاسم! بس اس بات کو چھوڑ دیں، میں گھر میں ہی نماز ادا کرلوں گا۔" میں ان سے کہتا ہوں "آپ فکر نہ کریں اگر میں پہلے یہاں پہنچ جاتا تو میں آپ کو وقت پر مسجد میں لے جاتا اور اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہیں لہذا میں آپ کو اللہ تعالٰی کی مدد سے مسجد میں لے جاؤں گا۔" تو خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ فرماتے ہیں کہ "ہمیں جلدی کرنی چاہئے اور مسجد روانہ ہوجانا چاہئے۔" اب میں پریشان ہو جاتا ہوں کہ مجھے راستہ بھی نہیں معلوم اور نہ ہی میرے پاس کار ہے۔ اب صرف اللہ تعالٰی ہی میری مدد کرسکتے ہیں۔" تو اللہ تعالٰی میرے دائیں کان میں فرماتے ہیں کہ "قاسم! خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ کو اُٹھا لو اور دوڑو میں تمہیں مسجد لے جاؤں گا۔" چنانچہ میں خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ کو اپنی بانہوں میں اُٹھا لیتا ہوں اور اللہ تعالٰی کی رحمت سے ہوا میں بھاگنا شروع کر دیتا ہوں۔ خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ ہمارے سامنے ایک بہت بڑی مسجد دیکھ کر بہت خوش ہو جاتے ہیں، وہ فخر سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ "یہ میرا بیٹا ہے جس نے مجھے اللہ تعالٰی کی مدد سے مسجد میں پہنچایا ہے۔"

جب ہم داخل ہوتے ہیں تو لوگ نماز کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ امامت کرواتے ہیں۔ میں مسجد میں داخل نہیں ہوتا کیوں کہ میں نے وضو نہیں کیا ہوتا، میں خود سے کہتا ہوں کہ اگر میرا وضو ہوتا تو میں ان کے ساتھ نمازادا کرتا۔ مسجد بہت بڑی ہوتی ہے لہٰذا اس دوران، میں وضو کر لیتا ہوں مگر اس وقت تک نماز ختم ہوجاتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر میں یہاں آنے سے پہلے وضو کرلیتا تو خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ نماز سے محروم ہوجاتے۔ اچھی بات یہ ہے کسی بھی طرح خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ اللہ کی مدد سے وقت پر مسجد میں پہنچ گئے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور خاتم النبیین نبی مکرم محمد ﷺ کی نماز دیکھنا شروع کردیتا ہوں۔ (خواب ختم ہوجاتا ہے۔)

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Next Post Previous Post